logo
انسان کے ناقابلِ تغیّر اور مسلسل جوہر، یعنی 'میں" کی حقیقت کی پہچان اُسی وقت ممکن ہے جب انسان "اپنے حواس کی محدودیت سے بالاتر ہو جائے۔جستجوگر باشد.”

"تھیوری آئی"['میں' کا نظریہ]، از حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا "پیرِ اویسی"”
ارتکاز

ارتکاز کی مشقیں اندرونی دباو کو کم کرنے میں ہماری مددگار ثابت ہوتی ہیں اور پھر ہم خود کو آزاد اور اچھّی حالت میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اِن مشقوں کی بدولت ہماری قوّتِِ ارادی مضبوط ہوتی اور ہم میں آگہی پیدا ہوتی ہے۔

آرام دہ حالت میں آ جائیں۔رید
  • آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں۔
  • پانچ بار گہری سانسیں لیں۔ ابتدا کے لیے ناک سے گہری سانس کھینچیں اور منہ سے نکال دیں۔
  • اپنے سارے جسم میں ہر سانس کے ساتھ آکسیجن بھر لیں۔
  • اپنے عضلات کو، اور جب آپ سانس خارج کر رہے ہوں تو بطورِ خاص اپنے ذہن کو آرام دہ حالت میں رکھیں۔
  • گہری سانسیں لینا جاری رکھیں، اب ناک سے سانس لیں اور خارج کریں۔
  • ہرممکن حد تک خود کو ساکت رکھیں۔ جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی۔
  • اب اپنی پوری توجّہ یکے بعد دیگرے اپنے جسم کے مختلف اعضا پر مبذول کرنا شروع کریں۔
  • اپنے سارے عضلات کو آرام دہ حالت میں لائیں۔ اپنی سانسوں کی مدد سے اپنے جسم سے سارے تناو خارج کر دیں۔
  • یقینی بنائیں کہ آپ کا تمام جسم آرام دہ حالت میں آ چکا ہے۔
  • اب آپ کی قوّتیں آزادی سے گردش کر سکتی ہیں، اور آپ جہاں چاہیں، اُن کا ارتکاز کر سکتے ہیں۔
  • اپنی توجّہ اپنے سر کی طرف کر لیں۔
  • اِسے مکمّل طور پر آرام دہ حالت میں رکھیں اور تصوّر کریں کہ آپ کا دماغ روشنی سے بھرا ہوا ہے۔
  • تنفس خود را عمیق و آرام دنبال کنید.
  • بتدریج یک قسمت از مغز را باندازه یک پرتقال کوچک در نظر بگیرید و تجسم کنید که این قسمت بخصوص مانند خورشید روشن و نورانی شده است.
  • آہستگی سے گہری سانسیں لینے کا عمل جاری رکھیں۔
  • آہستہ آہستہ اپنے دماغ کے مرکز میں ایک ایسے حصّے کا تصوّر کریں جو تقریبًا ایک چھوٹے نارنگی کے سائز کا ہے۔ تصوّر میں لائیں کہ یہ علاقہ خصوصی طور پر روشنی سے چمک رہا ہے، بالکل سورج کی طرح۔
  • جیسے ہی آپ دل تک پہنچیں، یہ تصوّر کریں کہ دماغ سے دل تک کا یہ راستہ روشنیوں سے بھر چکا ہے۔
  • اب چند منٹ تک دماغ اور دل کے درمیان موجود روشنی کی اِس لکیر پر ارتکاز قائم رکھیں۔
اِس مشق سے حاصل ہونے والی آسودگی اور توازن کو ممکنہ حد تک برقرار رکھیں۔