® تمرکز
تمرکز® کیا ہے؟
تمرکز® ایک باطنی سفر ہے۔ یہ طریقہ اُس شخص کے لیے ہے جو اپنی خوبیوں سے از سر نو آگاہی حاصل کرنا اور اپنی زندگی کے مقاصد کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔
تمرکز® ایک عارفانہ علم بھی ہے اور ہنر بھی جو قوّتوں کے اجتماع اور مراقبے کے ذریعے خود آگاہی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا مکمل اور ہمہ گیر عملی طریقہ ہے جس کے ذریعے انسان خود کو منظّم کرکے اپنی صحت، خوشیوں، خواہشات اور آرزوؤں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنی اور جسمانی حالت کو درست رکھ سکتا ہے۔
تمرکز® تمام انسانی قوّتوں اور صلاحیتوں کا احاطہ کرتا ہے اور انھیں ترقی دیتا ہے خواہ وہ جسمانی ہوں یا جذباتی، ذہنی یا روحانی۔ یہ ہر فرد کو اُس کے وجود کی انتہائی لطیف اور ارفع و اعلی حالت تک پہنچانے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔
ایہ ایک انتہائی معتبر اور قوی طریقہَ کار ہے جو 1400 سال سے اسلامی تصوّف کی قدیم روایات کے تحت آج تک جاری و ساری ہے۔
تمرکز کی تربیت در اصل ایم ٹی او شاہ مقصودی® سے مخصوص ہے اور عہد حاضر میں اپنی تازہ شکل میں یہ موجودہ صوفی استاد حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا کے ذریعے اب ہر شخص کے لیے عام کردی گئی ہے۔
تمرکز® کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
تمرکز® واحد طریقہَ عمل ہے جو ہمارے جسم، ذہن اور روح کو یکتائی کی حالت میں لے آتا ہے اور بہت مستعدی کے ساتھ ہماری مندرجہَ ذیل صلا حیتوں کو یک جا کردیتا ہے:
- جسمانی لچکداری۔
- اعضاے جسمانی کی مختلف حالتوں کے ساتھ ورزش کرنا۔
- درست طریقے سے سانس لینا۔
- ذہنی یکسوئی۔
- قوّتوں کا یکجا ہونا۔
- جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر آرام کی حالت میں لے آنا۔
- قلب میں مراقبہ۔
- قوّت بخش اور متوازن خوراک۔
- مثبت سوچ۔
- آاطمینان اور سکون کا گہرا احساس۔
یہ عمل ہم میں مسرّت اور سرخوشی کا احساس پیدا کرتا ہے، ہمارے جسم، دماغ اور جذباتی حالت کو خوب سے خوب تر بنا دیتا ہے اور اِس تیز رفتار زندگی کے دباو اور پریشانیوں سے چھٹکارا دلا دیتا ہے۔
تمرکز® ہمارے جسم میں پیدائشی طور پر موجود برقی مقناطیسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ عمل سرانجام دیتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ہم اپنے وجود میں موجود باطنی قوّتوں کے سرچشموں اور برقی مقناطیسی مراکز تک پہنچ جاتے ہیں۔
جسم میں موجود قوّتوں کے مراکز فعّال ہوجاتے ہیں اور اُن میں باہمی توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اِس عمل کی بدولت جسم، ذہن اور روح یکجا ہوکر کام کرنے لگتے ہیں اور اُس صحت مندی کا حصول ممکن ہوجاتا ہے جس کے لیے مشق شروع کی گئی ہے۔